گجر قوم کی تاریخ

گرجر گرجر ، گجر یا گوجر ہندوستان پاکستان اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کا ایک بڑا حصہ گوجری زبان بولتاہے ۔ تاریخ کے مستند ذرائع انھیں اس خطے کی سابق حکمران قوم کے طور پر تسلیم کرتے ہیں ۔ انڈیا میں صوبہ گجرات ، پاکستان کے شہر گجرات ، گجرانوالہ ، گجرخان ، گجر گڑھی سمیت ہزاروں مقامات گجر قوم کی اس خطہ میں قدیم موجودگی، ان کی تاریخ اور تہذیب اور حکمرانی کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔
پاکستان ڈکلیریشن ڈے
تحریک پاکستان کا باقاعدہ آغاز پاکستان ڈیکلیریشن سے ہوا تھا جب 28جنوری 1933ء کو چوہدری رحمت علی ؒنے اپنی مشہور اشاعت Now Or Never کے ذریعے مسلمانانِ برصغیر
بگ فٹ
بگ فٹ ایک بندر نما مخلوق ہے جو شمالی امریکا کے جنگلات میں پائے جاتے ہیں وہاں کے مقامی لوگوں کے مطابق یہ انسان نما جانور ان پہاڑی سلسلوں میں
گوجری
گوجری زبان پاکستان، بھارت افغانستان اور کشمیر میں وسیع پیمانے پر بولی جاتی ہے۔قدیم عہد سے لے کر عہد وسطیٰ تک ہندوستان میں یہ لوگ بڑی بڑی سلطننتوں
چوہان خاندان (شکامبھری)
سانچہ:Use Indian
میاں محمد بخش
میاں محمد بخش قادری کشمیر سے تعلق رکھنے والے عظیم صوفی میاں محمد بخش پسوال گجر تھے۔ان کی مادری زبان گوجری تھی لیکن وہ پنجابی,پوٹھوہاری,اور
گجر
گجر ،گُرجر، گُوجر ہندوستان پاکستان اور افغانستان میں بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ان کا ایک بڑا حصہ گوجری زبان بولتاہے ۔ تاریخ کے مستند ذرائع
گجروں کی فہرست
گجر یا گرجریا گوجر بھارت، پاکستان اور افغانستان کا ایک بڑا نسلی گروہ ہے۔ اس قوم کے قابل ذکر لوگ درج ذیل ہیں
محمد اول تپار
سلطان محمد تپار
ساگری دینہ جہلم
ساگری ساگری دینہ کے ساتھ ملخقہ گاؤں ہے جنگ آزادی سے پہلے یہاں ہندو ، سکھ،عیسائی رہتے تھے آزادی کے بعد وہ یہاں سے ہندوستان چلے
ابو حسن عبدی بصری
ابو الحسن علی بن الحسن بن اسماعیل العبدی بصری، (1130 - مئی 1203) آپ ایک مالکی فقیہ اور حدیث کے عالم تھے۔ آپ بحرین/الاحساء کے علاقے میں عبدالقیس