مغیرہ ابن شعبہ
مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ(20ق.ھ / 50ھ) کا تعلق قبیلہ ثقیف سے تھا ۔ آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کی والدہ کا نام اسماء بنت الافقم تھا۔اور وہ نصر بن معاویہ کے قبیلے سے تھیں ۔ حضرت مغیرہ بن معاویہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ قبیلہ ثقیف کے مشہور سردار عروہ بن مسعود کے بھتیجے تھے ۔ طائف میں ہجرت سے کوئی بیس سال پہلے پیدا ہوئے اور وہیں آپ کی پرورش ہوئی ۔ مغیرہ مشہور بت لات کے مجاروں میں سے تھے ۔ انھوں نے قبول اسلام سے پہلے ثقیف کی ایک جماعت کے ساتھ مصر کا سفر بھی کیا تھا۔اور آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہ غزوہ خندق میں اسلام قبول کیا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیعت رضوان میں شریک تھے ۔ اور وہاں تلوار لیے رسول اللہ صلَّی اللہُ علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کی حفاظت کرنے کی سعادت بھی انھیں حاصل ہوئی ہیں۔اسی دوران ان کے چچا عروہ بن مسعود قریش کی طرف سے رسول پاک صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے ساتھ مذاکرات کرنے آئے تو بات بات میں وہ اپنا ہاتھ ان کی داڑھی مبارک تک لے جاتے تھے ۔ اور حضرت مغیرہ نے انھیں ہر بار روکا اور کہا کہ اپنے ہاتھ کو روکو ورنہ اس ہاتھ سے ہاتھ دھونا پڑے گے ۔ اس پر عروہ نے رسول پاک صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم سے پوچھا کہ یہ بدتمیز کون ہے ؟ تو آپ صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے فرمایا : کہ یہ تمھارا بھتیجا مغیرا بن شعبہ ہے ۔ پھر جب عروہ واپس قریش کے پاس پہنچا تو اُن سے کہا " اے قریشیو ! میں بڑے بڑے بادشاہوں قیصروکسری اور نجاشی کے درباروں میں گیا ہوں مگر بخدا کہیں کسی کو اسی محبت کرتے ہوئے نہیں دیکھا جائے محمد صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے ساتھی ان سے کرتے ہیں ۔ بلکہ یہ تو ان کے اشاروں پر مرتے ہیں ۔ وہ کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑے گے ۔ پس تم اپنی رائے اور فیصلہ پر نظر ثانی کرلو " ۔
عروہ بن مسعود کی رائے میں اور باتوں کے علاوہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس بات کو بھی خاصا اثر تھا ۔
اس کے بعد تمام غزوات میں رسول پاک صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کی کمان میں جہاد کرنے کا موقع ملا ۔ غزوہ حنین اور طائف میں بھی بھرپور حصہ لیا ۔ رسول صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے انھیں اور حضرت ابو سفیان کو طائف میں میں ثقیف کے مشہور بت لات کے ڈھا دینے پر مامور فرمایا تو انھوں نے اپنے نئے عقیدہ کی بنیاد سابقہ عقیدہ کے بت کو پاش پاش کر کے جلا دیا ۔
حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کمان میں فتنہ ارتداد کی سرکوبی کے لیے جنگ یمامہ میں مسیلمہ کذاب کے خلاف نمایاں حصہ لیا ۔ اسی طرح ان کی ماتحتی میں عراق میں لڑی جانے والی تمام جنگوں میں شریک رہے اور پھر عراق سے شام کا رخ کیا تو یہ بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ اسی طرح جنگ یرموک میں بڑی بہادری کے ساتھ جنگ لڑتے ہوئے ان کی آنکھ اللہ کی راہ میں کام آئی ۔ پھر ملک شام کے معرکو میں بھی برابر کے شریک ہیں ۔ جنگ قادسیہ میں حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کمان میں لڑے ، جنگ سے پہلے کسری اور اس کے کمانڈروں کے ساتھ مسلمانوں کی طرف سے مذاکرات کرنے بھی گئے تھے ، اسی طرح رستم سے بھی ان کے مذاکرات ہوئے ۔ ان کی مدبرانہ گفتگو کا مسلمانوں کے حوصلوں پر بڑا خوش گوار اثر ہواجبکہ دشمنوں کے حوصلے اس سے پست ہوئے ۔ اس جنگ میں مجاہدین اسلام کو جہاد پر ابھارتے رہے اور اللہ کی راہ میں ہر طرح کی قربانی کے لیے تیار کیا ۔ پھر عتبہ بن غزوان کی قیادت میں بصری اور جنوبی عراق کی مہم میں شریک رہے۔اور جب عتبہ بن غزوان وہاں سے فریضہ حج کے لیے جانے لگے تو انھیں اپنا قائم مقام مقرر کیا اور جنوبی فرات کی مہم پر مجاشع بن مسعود کو آگے بھیجا ۔ مجاشع کو پہلے تو ایرانیوں پر غلبہ حاصل ہوا مگر ایک ایرانی قائد ایک بڑی تعداد میں فوج لے آیا تو اس کے مقابلے کے لیے بصرہ سے مغیرہ اپنی فوج لے کر نکلے ، سخت جنگ کے بعد اللّٰہ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے ۔
حجاز سے واپسی پر عتبہ کا راستہ میں ہی انتقال ہو گیا اور ان کے بعد حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ان کی جگہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو بصرہ کا کا والی مقرر کیا ۔ حضرت مغیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے نعمان بن مقرن کی قیادت میں میں سوق اور نہاوند کی جنگ میں میسرہ کی قیادت کرتے ہوئے نمایاں حصہ لیا ۔ 21ھ میں حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ انھیں کوفہ کا والی مقرر کیا ۔ اس دوران انھوں نے براءبن عازب کو قزین کی فتح پر مقرر کیا ، جو انھوں نے فتح کر لیا ۔22ھ ارجان بھی فتح کر لیا ۔ ان فتوحات کا سہرا بھی حضرت مغیرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ کے سر ہے ۔
حضرت مغیرہ بہترین قاری اور تجربہ کار کاتب تھے ۔ اس لیے رسول پاک صلَّی اللہُ علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم نے انھیں وحی کی کتابت پر مامور فرمایا تھا ۔ وہ فارسی زبان بھی جانتے تھے حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور ہرمزان کے درمیان ترجمانی کا کام انھوں نے ہی سر انجام دیا تھا ۔ انھوں نے رسول پاک صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم سے 34 احادیث بھی روایت کی ہے۔آپ بہت بڑے معتبر اور سیاست دان تھے اس لیے انھیں مغیرو الرائے کہا جاتا تھا ۔
شعبی رحمۃ اللہ علیہ کا کہنا ہے کہ :
عربوں میں چار مانے ہوئے مدبر سیاست دان ہوئے ہیں ۔ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رَضِیَ اللہُ عَنْہ حضرت عمرو بن العاص رَضِیَ اللہُ عَنْہ ، حضرت مغیرہ بن شعبہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ، زیاد اور معاویہ احتیاط اور صبر و تحمل میں۔حضرت عمر و بن العاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مشکل کاموں کے حل کرنے میں ۔ حضرت مغیرہ رَضِیَ اللہُ عَنْہ ناگہانی مشکل کاموں میں اور زیادہ چھوٹے بڑے معاملات سلجھانے میں اپنا جواب نہیں رکھتے تھے ۔
مصقلہ بن هبیرہ شیبانی کا کہنا ہے کہ :
حضرت مغیرہ دوست کے لیے بہترین دوست اور دشمن کے حق میں بدترین دشمن تھے ۔
حضرت مغیرہ نے زیادہ تر ماتحتی میں جنگ لڑی اور ان میں کامیاب ہوئے اسی طرح جب اُنھوں نے خود کمان سنبھالی تو اپنے لوگوں کو بڑی عمدگی سے لڑایا ۔ اور کامیابیوں نے ہمیشہ ان کے قدم چومے ۔ میں ان کی عسکری زندگی پر کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا ۔ ان کے عقائد اور ان کے ماتحت ہمیشہ ان سے خوش رہے ۔
بالکل آخری وقت میں کہنے :
"اللھم ھذہ یمینی با یعت بھا نبیك و جاھدت بھا فی سبیلك "
اے اللہ یہ میرا وہ دایاں ہاتھ ہے جس سے میں تیری نبی صلَّی اللہُ تعالٰی علیْہ واٰلِہٖ وسلَّم کے ہاتھ پہ بیعت کی اور تیری راہ میں اس سے لڑتا رہا ۔
50ھ میں کوفہ میں الثوبہ کے مقام پر طاعون سے 70 ستر سال کی عمر میں وفات پائی ۔