غزوہ حنین

8ھ / 630ء حُنین مکہ اور طائف کے درمیان ایک وادی کا نام ہے۔ تاریخ اسلام میں اس جنگ کا دوسرا نام غزوہ ہوازن بھی ہے۔ اس لیے کہ اس لڑائی میں بنی ہوازن سے مقابلہ تھا۔ مکہ اور طائف کے درمیان وادی میں بنو ہوازن اور بنو ثقیف دو قبیلے آباد تھے۔ یہ بڑے بہادر، جنگجو اور فنونِ جنگ سے واقف سمجھے جاتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد بھی انھوں نے اسلام قبول نہ کیا۔ ان لوگوں نے یہ خیال قائم کر لیا کہ فتح مکہ کے بعد اب ہماری باری ہے۔ اس لیے ان لوگوں نے یہ طے کر لیا کہ مسلمانوں پر جو اس وقت مکہ میں جمع ہیں ایک زبردست حملہ کر دیا جائے۔ چنانچہ حضور ﷺ نے عبد اللّٰه بن ابی حدرد کو تحقیقات کے لیے بھیجا۔ انھوں نے وہاں سے واپس آ کر ان قبائل کی جنگی تیاریوں کا حال بیان کیا اور بتایا کہ قبیلہ بنو ہوازن اور بنو ثقیف نے اپنے تمام قبائل کو جمع کر لیا ہے اور قبیلہ ہوازن کا رئیسِ اعظم مالک بن عوف ان تمام افواج کا سپہ سالار ہے اور سو برس سے زائد عمر کا بوڑھا۔ درید بن الصمہ جو عرب کا مشہور شاعر اور مانا ہوا بہادر تھا بطور مشیر کے میدانِ جنگ میں لایا گیا ہے اور یہ لوگ اپنی عورتوں بچوں بلکہ جانوروں تک کو میدانِ جنگ میں لائے ہیں تاکہ کوئی سپاہی میدان سے بھاگنے کا خیال بھی نہ کرسکے۔ نبی کریم ﷺ 8 ہجری میں بارہ ہزار مجاہدین کے ساتھ ان کے مقابلے کو نکلے۔ ان میں دو ہزار سے زائد نو مسلم اور چند غیر مسلم بھی شامل تھے۔ دشمنوں نے اسلامی لشکر کے قریب پہنچنے کی خبر سنی تو وادی حنین کے دونوں جانب کمین گاہوں سے اس زور کی تیر اندازی کی کہ مسلمان پریشان ہو گئے۔ مکہ کے نو مسلم افراد سب سے پہلے ہراساں ہو کر بھاگے۔ ان کو دیکھ کر مسلمان بھی منتشر ہونا شروع ہو گئے۔ حضور ﷺ کے ساتھ چند جاں نثار صحابہ میدان میں رہ گئے اور بہادری سے لڑتے رہے۔ خود رسول اللّٰه ﷺ تلوار ہاتھ میں لے کر رِجز پڑھ رہے تھے۔ ’’اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ‘‘ آپ کی ثابت قدمی اور شجاعت نے مسلمانوں کے حوصلے بلند کیے اور یہ مٹھی بھر آدمی دشمن کے سامنے ڈٹے رہے۔ حضور کے حکم سے حضرت عباس نے نام لے کے مہاجرین و انصار کو بلایا۔ اس آواز پر مسلمان حضور کے گرد اکھٹے ہو گئے اور اس شدت سے جنگ شروع ہوئی کہ لڑائی کا رنگ بدل گیا۔ کفار مقابلے کی تاب نہ لاسکے اور بھاگ نکلے۔ بنو ثقیف نے طائف کا رخ کیا۔ بنو ہوازن اوطاس میں جمع ہوئے لیکن مسلمانوں نے اوطاس میں انھیں شکست دی۔ مسلمانوں کو شاندار کامیابی ہوئی اور دشمن کے ہزاروں آدمی گرفتار ہوئے۔
حبیب النجار
حبیب النجار یا حبیب نجار جنہیں مومن آل یاسین کے نام سے بھی یاد کیا ہے یہ نیک شخص تھے شام کے شہروں میں سے ایک شہرانطاکیہ کے رہنے والے تھے۔ وَجَاۗءَ
ام الولد
ام ولد فقہ اسلامی میں اُس لونڈی کو کہتے ہیں جس سے مالک کا بچہ پیدا ہو اور اسے مالک اپنی اولاد قرار دیدے اس صورت میں لونڈی آقا کے مرنے پر خود بخود
بیعت
دینی و دنیاوی امور میں شریعت کی پیروی کرنے کے لیے کسی کو رہبر و رہنما ماننے اور اس کے کہنے پر عمل کرنے کا عہد ، بیعت کہلاتا ہے
الہام
الہام سمجھ دینے اوردل میں کوئی بات القاء کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اصل معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ایک بات
بیعت عقبہ اولی
بیعت عقبہ اولیٰ یہ بیعت12 نبوی میں ہوئی جس میں 12 آدمیوں نے بیعت کی
غزوہ بنی نضیر
بنی نضیر فلسطین کے باشندے تھے۔ 132ء میں رومیوں کی سخت روی کی وجہ سے یہودیوں کے چند قبائل جن میں بنی نضیر اور بنو قریظہ شامل تھے فلسطین کو چھوڑ
خرقہ
خرقہ: کسی صوفی کے موٹے جھوٹے اونی لبادے کو خرقہ کہتے ہیں اسے تصوف میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے
بیعت عقبہ ثانیہ
بیعت عقبہ ثانیہ یہ بیعت13 نبوی میں ہوئی جس میں 73 مردوں اور دو عورتوں نے بیعت کی
بعل
” بعل “ ایلیاہ کی قوم کا معبود تھا اسی کے نام پر ان کے شہر کا نام بعلبک رکھ دیا گیا تھا۔ قرآن میں اس کا ذکر ایک مرتبہ آیاأَتَدْعُونَ بَعْلًا
سٹہل ہاؤس
سٹہل ہاؤس لاس اینجلس، کیلیفورنیا کے ہالی ووڈ ہلز سیکشن میں آرکیٹیکٹ پیئر کوینیگ کی طرف سے ڈیزائن کیا گیا ایک جدید طرز کا گھر ہے، جسے امریکی فلموں