جنگ نہروان

جنگ نہروان خلیفہ چہارم علی بن ابی طالب اور خوارج کے درمیان میں 9 صفر 38ھ (659ء) کو لڑی گئی۔ خوارج کوفہ کے زاہدوں کی ایک جماعت تھی، جو علی بن ابی طالب کی اطاعت سے اس وقت نکل گئے جب علی بن ابی طالب اور امیر معاویہ کے درمیان میں دو فیصلہ کرنے والوں کو مقرر کیا گیا، اس کا سبب یہ تھا کہ جب علی بن ابی طالب اور امیر معاویہ کے درمیان میں جنگ طول پکڑ گئی تو دونوں فریق اس پر متفق ہو گئے کہ خلافت کس کا حق ہے؟ اس کا فیصلہ کرنے کے لیے ابوموسیٰ اشعری اورعمرو بن العاص کو مقرر کر دیا جائے اور دونوں فریق ان کا فیصلہ پر راضی ہوں گے اس وقت خوارج نے کہا : "حکم صرف اللہ کا ہے" علی بن ابی طالب نے فرمایا : یہ کلمہ برحق ہے لیکن انس سے جس معنی کا ارادہ کیا گیا ہے وہ باطل ہے، خوارج کی تعداد بارہ ہزار تھی، انھوں نےعلی بن ابی طالب کی خلافت کا انکار کیا اور اپنی مخالفت کا جھنڈا نصب کر دیا اور خون ریزی اور ڈاکے مارنا شروع کر دیے علی المرتضی نے فرمایا کہ یہ لوگ اپنے فیصلہ سے رجوع کر لیں۔ مگر یہ لوگ جنگ کرنے کے سوا کسی بات سے راضی نہیں ہوئے۔ پھر علی المرتضی نے نہروان کے علاقہ میں ان سے جنگ کی، نہروان بغداد کے قریب ایک شہر ہے، علی المرتضی نے ان میں سے اکثر کو قتل کر دیا اور ان میں سے بہت کم زندہ بچے اس فرقہ کا سرغنہ عبداللہ بن شداد کوفی تھا پہلے تو علی بن ابی طالب نے اس فرقہ کی فہمایش کے لیے عبد اللہ بن عباس کو حروراء مقام پر بھیجا یہ حروراء وہ جگہ ہے جہاں ان لوگوں نے سکونت اختیار کی تھی اس سبب سے یہ فرقہ حروریہ کہلاتا ہے عبداللہ بن عباس کی فہمایش سے یہ لوگ چند روز کے لیے راہ راست پر آ گئے اور پھر ان لوگوں نے مسلمانوں کا قتل راہزنی اور طرح طرح کے فساد برپا کیے جن کے سبب سے علی المرتضی نے ان پر چڑھائی کی اور نہروان مقام پر اس فرقہ کی اور علی بن ابی طالب کی لڑائی ہوئی اس لڑائی میں خارجی فرقہ کے لوگ یہاں تک قتل ہوئے کہ صرف دس بارہ آدمی ان میں سے بچ گئے ذوالخویصرہ بھی اس لڑائی میں مارا گیا یہ وہی شخص ہے جس نے حنین کے مال کی تقسیم کے وقت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا نہروان کی لڑائی میں سے دس بارہ خارجی جو بچ گئے تھے عبدالرحمن بن ملجم بھی ان میں ہی تھا جس نے موقع پاکر علی المرتضی کو شہید کیا
قبیلہ جرہم
قبیلہ جرہم عرب کے مشہور اور بڑے قبائل میں سے ایک ہے۔ قبیلہ کے مورث اعلیٰ کا نام جرح تھا جس کا مختلف املا کتب تاریخ میں ملتا ہے۔ اسے جرح، سرح
سریہ علی ابن ابی طالب (یمن)
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابی طالب کو بذات خود جھنڈا باندھا، اپنے ہاتھ سے انھیں عمامہ پہنایا اور فرمایا
سریہ طفیل بن عمرو دوسی
سریہ طفیل بن عمر الدوسی شوال 8ھ میںغزوہ طائف روانگی سے قبل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے طفیل بن عمرو دوسی کو عمرو بن حممہ دوسی کے بت
السیر الکبیر
السیر الکبیر امام محمد بن حسن شیبانی کی تصنیف ہے جو ظاہر روایت کی 6 کتابوں میں شامل ہے۔ السیر الکبیرخارجہ پالیسی اور بین الاقوامی تعلقات پر
سریہ عیینہ بن حصن فزاری
محرم 9 ہجری میں عیینہ بن حصن فزاری 50 سواروں کے ساتھ بنو تمیم کی طرف گئے، جن میں کوئی بھی انصار یا مہاجر نہ تھا وہ اس وقت سقیا اور بنوی تمیم کے علاقے
سریہ مرثد بن ابو مرثد
سریہ مرثد بن ابی مرثد غنوی یا سریہ رجیح غزوہ احد کے بعد وسط ماہ صفر 4ھ میں پیش آيا
سریہ منذر بن عمرو
ماہ صفر 4ھ میں بئرمعونہ کا مشہور واقعہ پیش آیا۔ ایک نجدی عامر بن مالک کلابی نام کا ایک نجدی، مدینہ منورہ آیا، وہ مسلماں تو نہ ہوا، لیکن اس نے
غزوہ ذی امر
غزوہ ذی امر یا غزوہ غطفان ربیع الاول 3 ہجری بنو ثعلبہ و بنو محارب اور مدینہ کے 450 مسلمانوں کے درمیان پیش آیا
سریہ محمد بن مسلمہ (ذو قصہ)
سریہ محمد بن مسلمہ میں 10 افراد شریک تھے۔ یہ لوگ بنو ثعلبہ کی طرف گئے۔ رات کے وقت پہنچے، لڑائی ہوئی جس میں 9 شہید اور ایک شدید زخمی ہوئے، جن کی
مورینا ہیریرا
مورینا ہیریرا ایک سلواڈور کی حقوق نسواں اور سماجی کارکن ہیں، جو اپنے ملک میں اسقاط حمل پر پابندی کے خلاف کام کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ سلواڈور