جعفر زٹلی

جعفر زٹلی 1658 میں دہلی کے گاون نرنیال موجودہ ہریانہ میں پیدا ہوئے۔اصل نام محمد جعفر تھا زٹلی تخلص رکھا زٹلی کے لغوی معنی بے ربط گفتگو کرنے والا ہے ۔ سید گھرانے میں پیدا ہوئے زیادہ تر زندگی کا حصہ دہلی کے آس پاس میں گذرا۔ زٹلی نے لکھنے کا آغاز مغل بادشاہ اورنگزیب دور میں کیا اور اورنگ زیب پر بہت زیادہ تنقید کے ساتھ ساتھ انھوں نے اورنگ زیب کی انتظامی صلاحیتوں کی تعریف بھی کی ہے۔اورنگ زیب کے بعد کا دور مغلیہ سلطنت کے زوال کا دور تھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنی شاعری میں مغلیہ دور حکومت پر بہت زیادہ تنقید کی۔ مغلیہ دور کے معاشی اور سیاسی حالات اور بادشاہ وقت کے خلاف اپنی آواز شاعری کے ذریعے بلند کی یہاں تک کہ بادشاہ وقت کے خلاف احتجاج کے وقت بھی انتہائی غصے کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کیا جس کی وجہ سے انھیں مغل شہنشاہ فرخ سیر نے پھانسی کی سزا سنائی جس پر1716 میں جوتے کے تسمے سے گلہ گھونٹ کر عمل درآمد کیا گیا۔
عہد مغلیہ کے لنگر خانے
عہدمغلیہ میں لنگر خانوں کا عام چلن رہا مگر ان پر زیادہ تر مواد کتب میں محفوظ نہ رہ سکا اور زمانے کی دست برد سے نہ بچ سکا۔ محمد شاہ عادل ، بیرم
بھگت کبیر فلسفہ و شاعری
'بھگت کبیر فلسفہ و شاعری' کتاب کی تالیف ہری اودھ نے کی اور اس کا اردو ترجمہ سرسوتی سرن کیف نے کیا ہے۔ کتاب کے ناشر فکشن ہاؤس لاہور ، ترتیب و
عہد مغلیہ کے ہندو علما
یاداشتوں خاکوں اور سوانح عمری کی فہرست (سال اشاعت 2018)
مخطوطات سفرناموں, یاداشتوں, خاکوں اور سوانح عمری میں چند قابل ذکر نام یہ ہیں۔باتیں مشفق خواجہ کی ہوا نامہ بر ہے بزم احبابِ ندوہ جبران سے ملیے
کینسر کا عالمی دن
کینسر کے خلاف آگاہی کا عالمی دن 4فروری کو دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق کینسر دنیا میں سب سے تیزی سے پھیلنے والا مرض بن
تاریخ یوسفی عجائبات فرنگ
تاریخ یوسفی المعروف عجائبات فرنگ یوسف خان کمبل پوش کا سفرنامہ ہے جو پہلے فارسی زبان میں تحریر ہوا اور اس کے بعد اسے اردو کے قالب میں ڈھالا گیا
ابن خلدون رسالہ
مصری یونیورسٹی الازھر کے مشہور پروفیسر ڈاکٹر طہ حسین کے فرنچ رسالہ کے عربی ترجمے کا اردو ترجمہ جس میں ابن خلدون سوانح زندگی اور اس کے فلسفہ
راؤ مالدیو راٹھور
مالدیو راٹھور مارواڑ کے فرماں روا تھے ، مارواڑ بعد ازاں جودھ پور کہلایا ۔ ان کے والد کا نام راؤ گنگا جی اور والدہ کا نام رانی پدماوتی تھا۔ راؤ
ملگھاٹ
ملگھاٹ کو ٹائیگر ریزرو قرار دیا گیا اور یہ نو ٹائیگر ریزرو میں پہلی تھی جس کا اعلان 1973–1974 میں ٹائیگر پراجیکٹ کے تحت ہوا۔ یہ صوبہ مہاراشٹر
تحریک آزادی ہند کی خواتین
تحریک آزادی ہند میں 1947ء تک جاری رہنے والی برطانوی حکمرانی کو ختم کرنے کی جدوجہد میں خواتین نے اپنا حصہ اس عہد کی رسموں اور روایات میں موجود آزادی