تفسیر علی بن ابراہیم قمی

تفسیر علی بن ابراہیم قمی، شیعہ تفاسیر میں سے ایک قدیمی اور روائی تفسیر گنی جاتی ہے۔ یہ تفسیر قمی کے نام سے معروف ہے۔ علی بن ابراہیم قمی اس کے مؤلف ہیں جو اپنے زمانے کے شیعہ فقیہ، محدث، امام علی نقی (ع) اور امام حسن عسکری (ع) کے زمانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ محمد بن یعقوب کلینی کے مشائخ اور اساتذہ میں سے ہیں۔ شیعہ تفاسیری ماخذ اور روش کے لحاظ سے ایک روائی تفسیر ہے۔ بعض علما اس کے انتساب میں مشکوک ہیں اور اسے علی بن ابراہیم قمی کی تفسیر قبول نہیں کرتے ہیں۔
قرآن میں عدم تحریف
عدمِ تحریفِ قرآن مسلمانوں کا متفقہ عقیدہ ہے۔ مفسرین اور متکلمین نے قرآن میں ہر قسم کی تحریف اور کمی یا بیشی کی نفی کرتے ہوئے آیات اور احادیث کی
آیت اکمال
آیت اکمال؛ سورہ مائدہ کی تیسری آیت ہے جو واقعۂ غدیر کے سلسلے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ پر نازل ہوئی ہے
علی بن ابراہیم قمی
سانچہ:خانہ معلومات راوی علی بن ابراہیم قمی، شیعہ امامیہ مذہب کے فقیہ اور مفسر ہیں جو امام ہادی علیہ السلام کے اصحاب میں سے تھے۔ انھوں نے بہت سے
عبد الرحمٰن بن عبداللہ ارحبی
عبد الرحمان بن عبد اللہ ارحبی ان اصحاب امام حسین میں سے ہیں جنھوں نے امام کی رکاب میں جام شہادت نوش کیا۔انھوں نے قیس بن مسہر کے ہمراہ کوفیوں
عقبہ بن سمعان
عقبہ بن سمعان حضرت امام حسین ؑ کی زوجہ محترمہ رباب کا غلام اور کربلا میں حضرت امام حسین ؑ کے ساتھیوں میں سے تھا جس نے کربلا کے بعض واقعات کو
عبدالحسین امینی
عبد الحسین امینی ، علامہ امینی کے نام سے معروف، شہرہ آفاق کتاب الغدیر کے مصنف، چودہویں صدی ہجری کے شیعہ فقیہ، محدث، متکلم، مورخ اور برجستہ
حمید بن مسلم ازدی
حُمَید بن مسلم ازدی واقعہ کربلا کی روایات نقل کرنے والوں میں سے ہے۔ یہ روز عاشورا عمر بن سعد کا وہ سپاہی تھا جس نے شمر بن ذی الجوشن کو حضرت
محمد بن ابی سعید بن عقیل
محمد بن ابی سعید بن عقیل عاشورا کے دن شہید ہونے والے بنی ہاشم کے شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ کربلا میں ان کا سن سات سال تھا۔ حضرت امام حسین کی
عبید اللہ بن یزید کلبی
عبیداللہ بن یزید بن ثبیط قیسی شہدائے کربلا میں سے ہیں اور 10 محرم 61ھ روز عاشورا یزیدی فوج سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے
ابو حسن عبدی بصری
ابو الحسن علی بن الحسن بن اسماعیل العبدی بصری، (1130 - مئی 1203) آپ ایک مالکی فقیہ اور حدیث کے عالم تھے۔ آپ بحرین/الاحساء کے علاقے میں عبدالقیس