آئین پاکستان میں سترہویں ترمیم

آئین پاکستان میں ترمیم جس کو سترہویں ترمیم 2003ء کے نام سے جانا جاتا ہے، دسمبر 2003ء میں کی گئی۔ یہ ترمیم تقریبا ایک سال تک اس وقت کے صدر جنرل پرویز مشرف کے حامیوں اور مخالفین کے بیچ بحث مباحثوں اور کئی موقعوں پر تلخیوں کے بعد منظور کی گئی تھی۔ یہ ترمیم اس لحاظ سے نہایت اہمیت کی حامل ہے کہ آئین پاکستان میں وسیع پیمانے پر کئی ترامیم کی گئیں۔ ان ترامیم میں کئی صدر پاکستان کے عہدے سے متعلق تھیں اور آئین پاکستان میں تیرہویں ترمیم میں کی گئی تقریباً ترامیم واپس لے لی گئیں۔ آئین پاکستان میں سترہویں ترمیم کے چیدہ چیدہ نکات زیل میں بیان کیے گئے ہیں۔صدر مشرف کی جانب سے پیش کردہ لیگل فریم ورک آرڈر یا ایل ایف او کو جزوی تبدیلیوں کے ساتھ آئین کا حصہ بنا دیا گیا۔ آئین کے آرٹیکل (ڈ)(1)63 کو 31 دسمبر 2004ء سے فعال تصور کیا گیا۔ جس کی رو سے کسی بھی شخص کے بیک وقت دو عہدے، یعنی سیاسی عہدہ اور سرکاری ملازم کا عہدہ رکھنے کی ممانعت کر دی گئی۔ لیکن بعد میں ایک عمومی قانون جو پارلیمان نے 2004ء میں سادہ اکثریت سے منظور کیا، اس کی رو سے صدر مشرف کو اس بات کی اجازت دی گئی کہ وہ بیک وقت صدر کا سیاسی عہدہ اور افواج پاکستان کے سربراہ کا سرکاری عہدہ رکھ سکتے تھے۔ اگر صدر پاکستان اس ترمیم کے تیس دن کے اندر الیکٹورل کالج سے اکثریتی اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو انھیں باقاعدہ طور پر صدر پاکستان تصور کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ یکم جنوری 2004ء کو صدر مشرف نے الیکٹورل کالج کے 1170 ووٹوں میں سے 658 ووٹ لے کر 56 فیصد اکثریت حاصل کی اور انھیں اس شق کی رو سے صدر پاکستان قرار دے دیا گیا۔ صدر پاکستان کو قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اختیار واپس مل گیا اور اس طرح وہ مختص حالات میں وزیر اعظم پاکستان کو فارغ کر سکتے تھے۔ لیکن ان تمام اقدامات کی منظوری پاکستان کی عدالت عظمیٰ کی توثیق سے مشروط رہی۔ صوبائی اسمبلیوں کی تحلیل بارے گورنر کی رائے کی منظوری کو بھی پاکستان کی عدالت عظمیٰ سے توثیق کروانا لازمی قرار دیا گیا۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 152A جس کی رو سے پاکستان کی نیشنل سیکورٹی کونسل تشکیل پاتی ہے، کو بھی منظور کروایا گیا۔
آئین پاکستان میں تیرہویں ترمیم
آئین پاکستان میں تیرہویں ترمیم جو آئین ایکٹ 1997ء کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ 1997ء میں اس وقت کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی حکومت نے منظور
آئین پاکستان میں چوتھی ترمیم
آئین پاکستان میں چوتھی ترمیم 21 نومبر 1975ء کو نافذ ہو گئیں جن کی رو سے پارلیمان میں اقلیتوں کے لیے مختص نشستوں کا از سر نو جائزہ لیا گیا اور اس
آئین پاکستان میں پانچویں ترمیم
آئین پاکستان میں پانچویں ترمیم کی رو سے پاکستان کی تمام صوبائی عدالت عالیہ سے وہ تمام اختیارات واپس لے لیے گئے جن کی مدد سے کوئی بھی عدالت کسی
آئین پاکستان میں چھٹی ترمیم
آئین پاکستان میں چھٹی ترمیم کی رو سے پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے منصف اعظم کے حوالے سے یہ نکات داخل کیے گئے کہ 65 سال کی عمر میں ریٹائر جبکہ صوبائی
وفاقی شرعی عدالت پاکستان
وفاقی شرعی عدالت پاکستان 8 (آٹھ) مسلمان منصفین پر مشتمل ہوتی ہے جس میں منصف اعظم بھی شامل ہیں۔ یہ تمام منصفین صدر پاکستان کی منظوری سے تعینات کیے
محراب
فن تعمیر میں محراب (arch) نصف یا چوتھائی تقریباً دائرے کے تعمیری سی ساخت کو کہتے ہیں جو دو فاصلوں کے درمیان میں کی دوری کو پورا کرتا ہے اور اپنے اوپر
آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم
آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم جس کو سرکاری طور پر آئین ایکٹ، 1985ء کے نام سے جانا جاتا ہے اور اسے 9 نومبر 1985ء کو نافذ العمل کیا گیا۔ اس ترمیم کی رو
ہاکی سٹیڈیم ایبٹ آباد
ایبٹ آباد ہاکی اسٹیڈیم پاکستان کے صوبہ سرحد میں واقع شہر، ایبٹ آباد میں ایک بڑا فیلڈ ہاکی کے کھیل کا میدان ہے
بانسری
بانسری، موسیقی کا ایک آلہ جو لکڑی سے بنایا جاتا ہے اور اس میں پھونکی جانے والی ہوا کی وجہ سے سر بکھیرتا ہے۔ ہوا کے دوش پر سر بکھیرنے والے دوسرے
نوید احمد (اسلام آباد کرکٹ کھلاڑی)
نوید احمد ایک سابق پاکستانی کرکٹ کھلاڑی ہیں۔ وہ دائیں ہاتھ کے ٹاپ آرڈر بلے باز ہیں۔ اسلام آباد کے لیے ان کا کیریئر 1993 سے 2001 تک جاری رہا اور اس